AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 10, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

مسیحا، مہدی سے سپرمین تک

سچ تو یہ ہے کہ میں بالکل کھل کر نہیں بولتا، ہاں کبھی کبھار بول بھی لیتا ہوں لیکن دلائل کے ساتھ! اصل میں، جو میں سمجھ رہا ہوں وہ یہ کہ انسان بنیادی طور پر چاہے کتنا ہی دلائل اور اشیاء…

مرکزی نکتہ

سچ تو یہ ہے کہ میں بالکل کھل کر نہیں بولتا، ہاں کبھی کبھار بول بھی لیتا ہوں لیکن دلائل کے ساتھ! اصل میں، جو میں سمجھ رہا ہوں وہ یہ کہ انسان بنیادی…

سچ تو یہ ہے کہ میں بالکل کھل کر نہیں بولتا، ہاں کبھی کبھار بول بھی لیتا ہوں لیکن دلائل کے ساتھ! اصل میں، جو میں سمجھ رہا ہوں وہ یہ کہ انسان بنیادی طور پر چاہے کتنا ہی دلائل اور اشیاء کی وجہ سے طاقتور کیوں نہ ہو لیکن اپنے جوہر میں وہ بہت ڈرپوک ہے. وہ پیدا ہوتے ہی سہارے مانگتا ہے. بڑا ہوتا ہے تو وہ تصوراتی سہاروں کی تلاش میں ہی رہتا ہے. اور یوں انسان خدا کے سامنے آجاتا ہے! پہلے جنگلی جانوروں سے ڈرتا تھا، جنگل کی آگ سے ڈرتا تھا، بیماریوں سے، موت سے، نیز اس کی ابتدا میں اسے وسائل کے استعمال سے زیادہ "لامرئی ڈر” زیادہ ملا۔
یہ تو پھر جب اس نے عقل استعمال کی اور فطرتی طاقتوں کو اپنی ضروریات کے حساب سے ہم آہنگ کرنا شروع کیا.. اور پھر، جنگل، قبیلے، سلطنتوں، جاگیروں اور حکومتوں کے زیر اثر مادی طور پر خوف و لالچوں کے درمیاں مختلف مکاتب بناتا ارتقا کرتا آنے لگا.
لیکن اس ساری ارتقا میں دو ہی چیزیں سالم رہی جو برسوں سے جیسی تھیں، ویسی ہی رہی ہیں. یعنی خوف اور لالچ. اور انہی دو عوامل پر مذاہب سے لیکر حکومتیں، اپنے ماننے والوں اور رعایا پر دبدبہ جمائے ہوئے آئے ہوئے ہیں۔
اب دیکھیے! ایک ظلم میں پسا ہوا فرد سوچتا ہے کہ اگر میں مر گیا تو پھر؟ کیا یہی ظلم چلتا رہے گا؟
یا کوئی گروہ یہ سوچتا ہے کہ کیا ظالم کی وسعت اتنی بڑی ہے کہ خدا بھی مسقتل انہیں ڈھیل دے رکھا ہوا ہے؟
تب وہ خود کو اور تمام عالم انسان کو ایک لامرئی اطمینان بخش تصور دیتا ہے.. جو کہ فطرتی قوانین کے بالکل عین مطابق بھی ہے. یعنی انتہائی تاریک رات اپنی کوکھ سے روشن صبح کو جنم دیتی ہے..
اب یہ اپنے ذہن میں پکا کرلیں! یہ فطرت کا ضدین باہمی کا اصول ہے، کہ رات کو دن، بدی کو نیکی، تاریکی کو روشنی سے مٹایا جائے گا! اور یہ سب کیسے ہوگا؟
اب یہاں پر پنگا شروع ہوجاتا ہے۔
لیکن ایک پل انتہائی سنجیدہ ہوکر غور کریں، اور اپنے ذہن میں پہلے سے بنائے ہوئے خیالات کو ایک منٹ کے لیے "شٹ ڈائون” کر کے یہ سوچیں کہ:

  1. زیوس اپنی بیٹی پینڈورا کو بیاہ کر اسے جہیز میں ایک پیتی دیتا ہے.. جس میں مصائب ہی مصائب بھرے ہوئے ہوتے ہیں… بیماریاں، بدیاں نیز انسان کی تباہی کا تمام تر سامان… لیکن بالکل تہ میں لپٹی ایک اور بھی چیز ہے… جسے ہم سب "امید” کے نام سے جانتے ہیں… تو یہ کیا ہے؟
  2. تمام بڑے مذاہب میں دنیا کی تباہی ہونے سے قبل ایک ایسا فرد آتا ضرور ہے جسے مجموعی ایک ہی نام دیا جاتا ہے جسے مسیحا کہتے ہیں… لیکن ان سب کے مختلف مذاہب میں انفرادی نام جدا ہیں جیسے: یہودیت میں مسیحا، عیسائیت میں مسایح، اسلام میں مہدی، بدھ مت میں متریا، تائوزم میں لی ہونگ، ہندوازم میں کالکی، زوروتشتوں میں سائوشیانت وغیرہ وغیرہ.

تو مندرجہ بالا ناموں کو ان مذاہب کے ماننے والے قریب قریب ایک ہی حالات کے تناظر میں مانتے ہیں کہ وہ آئیں گے اور اس دنیا کو امن کا گہوارا بنادیں گے.. عدل قائم کریں گے اور وہ آنے والے مسیحا انسانیت کے تمام طبقے مٹادیں گے.
تو یہ ہوا روحانی یا مابعد الطبیعاتی تصورات ان مسیحائوں کے بارے میں. اب ہم آتے ہیں ان ناستکوں کی طرف جو اس مسیحائی مہدیت تصور کو کیسے مادی نمونے سے دیکھتے ہیں.
ایک مزے کی بات بانٹتا چلوں. کامریڈ لینن کا ایک قریبی اور ملامتی دوست ٹرائٹسکی ہوتا تھا. (صحیح یاد نہیں شاید کوئی اور ساتھی ہوگا) اس نے ایک دن لینن سے پوچھا کہ کامرید بالفرض سوشلزم پوری دھرتی پر قائم ہوجائے اور ساری زمین پر کمیونزم کا سورج طلوع ہوجائے تو پھر کیا ہوگا؟ پھر کیا اچھائی کیا برائی؟ کوئی مقابلہ نہیں ہوگا تو پھر پیداواری صلاحیتوں کا کیا ہوگا؟ آدمیوں کی پہچان کیا ہوگی؟
تب لینن نے بڑا پیچیدہ سا جواب دیا تھا: اس نے کہا کہ: "کامریڈ اسی معمے کا حل تلاش کے لیے تو ہم لڑ رہے ہیں.” تو یہ حل کیا ہے؟
پوری دھرتی کے لبرل، سماجدان، سماجی سائنسدان اس کھوج میں ہیں کہ دھرتی پر امن قائم ہوجائے، اور یہاں صحتمند ماحول بنے کہ یہ دھرتی مکمل سکون میں آجائے اور ایسی حالت میں آجائے کہ جسے وہ "یوٹوپیا” کہتے ہیں.. اور آپ کو پتہ ہے اس یوٹوپیا کو کون بنائے گا؟ ایک سپرمین. تو یہ سپرمین کیا ہے؟
بس اب بات کو ہم سکیڑتے ہیں ایک جملے پر! بیسویں اور اکیسویں صدی کے اس وقت کا دبنگ نیوکلائی فزکسٹ جناب اسٹیفن ولیم ہاکنگ سے جپان میں پوچھا گیا کہ: "دھرتی پر امن قائم کرنے کے لیے کیا کسی اور سیارے سے مخلوق آئے گی؟
تب پتہ ہے اس نے کیا جواب دیا تھا: آپ ہنسیں گے اس کا جواب سن کر!
اس نے جواب دیا تھا کہ: قطعی نہیں، کم سے کم اب تک تو مجھے نہیں لگتا، لیکن اپنی مائوں کی کوکھوں کو مضبوط کریں. ہم میں سے ہی ایک سپرمین جنم میں آئے گا.. اور وہ ضرور ہوگا!”
سو میرے تمام احباب دوستو!
اب ناموں میں مت الجھیں! نہ ہی تصورات میں، وہ فرد ضرور آئے گا، نام چاہے کچھ بھی ہو!
جیسے وہ کیا گانا ہے؟ ہاں یاد آیا. کہ:
نام گم جائے گا
چہرہ بھی بدل جائے گا
میری آواز ہی میری پہچان ہے
گر یاد رہے!

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ میں بالکل کھل کر نہیں بولتا، ہاں کبھی کبھار بول بھی لیتا ہوں لیکن دلائل کے ساتھ! اصل میں، جو میں سمجھ رہا ہوں وہ یہ کہ انسان بنیادی طور پر چاہے کتنا ہی دلائل اور اشیاء کی وجہ سے…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔