AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 14, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

پتھر کو چھوڑ کر پہاڑ کھوجنا

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے کلام "شاہ جو رسالو” کے "سر سُہنی” میں ایک جگہ پورے جگت کا کیا فلسفہ، کیا تکمیل کی انتہا کیا کمال کی بات کہی ہے۔ پہلے سندھی میں سن لیں:"سو نه ڪَنهن شَيءِ ۾، جيڪِي مَنجِھ تُرابَ”کیا…

مرکزی نکتہ

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے کلام "شاہ جو رسالو” کے "سر سُہنی” میں ایک جگہ پورے جگت کا کیا فلسفہ، کیا تکمیل کی انتہا کیا کمال کی بات کہی ہے۔ پہلے سندھی میں سن…

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے کلام "شاہ جو رسالو” کے "سر سُہنی” میں ایک جگہ پورے جگت کا کیا فلسفہ، کیا تکمیل کی انتہا کیا کمال کی بات کہی ہے۔ پہلے سندھی میں سن لیں:
"سو نه ڪَنهن شَيءِ ۾، جيڪِي مَنجِھ تُرابَ”
کیا کہ رہا ہے کبھی غور کیا؟ وہ کہ رہا ہے کہ کیا ہے کہیں اور؟ اس کرہ ارض پر کوئی ایسی چیز ہے اور؟ جو مٹی میں نہیں ہے؟
اور ہم سب کے سب بنی تراب، مٹی کی اولاد پورا جگت، پوری دھرتی، پورے معدنیات خود میں سمائے گھوم رہے۔۔۔ لیکن ہم نہیں جانتے!
پندرھویں صدی کے بعد سائنس کی تمام لیبارٹریاں دنیا جہاں، انواع و اقسام پر کھوجنے میں لگ گئی، پچھلی صدی میں تو چاند پر بھی انسان نے اپنے پائوں رکھ دیے، ہبل اسکوپ سے پتہ نہیں کتنی کہکشائیں کھوجی گئی، مادے کے جوہر ایٹم (آتما) کے اندر عناصر۔۔ اور پھر ان کے اندر گھسنے کی جستجو اور اس میں پائی جانے والی کوانٹم فزکس کے ابواب۔۔۔
کیا کیا۔۔۔۔
سمندروں کی تہوں میں غوطے لگا کر پوشیدہ ترین خزانے تلاش کیے یہ خردماغ کھوجی، تو پہاڑوں، جنگلوں، بیابانوں مین سرکوبی کیے یہ مست ملنگ سائنسدان! کیا کیا کیا جارہا۔۔ لیکن بنی نوع انسان اُسی حالت میں!
جیسے پیاسا آدمی کہے، بکواس بند کرو، مجھے تمہارے کوارکس جاننے سے کیا ہوگا؟ میں تمہاری "ایچھ ٹُو او” کو پیئوں، کھائوں، اوڑھوں کیا کروں؟ مجھے پانی دو، مجھے پیاس لگی ہے!”
میں حیران ہوجاتا ہوں۔۔
سائنس کی اتنی کھوج اور ٹیکنولوجی کی اتنی سہل گیری لیکن انسان اسی نسبت سے پستگی کی طرف کیوں واپس جا رہا ہے؟
ہونا تو چاہیے تھا یہ خلیج کم سے کم ہوتی جاتی، ہونا تو چاہیے تھا کہ اب بھوکوں کے پیٹ بھرے ہوتے، صاف پانی سب کو مہیا کیا جا چکا ہوتا، زندگی سب کے لیے یکساں سماجی انصاف اور شخصی احترام لیے خوش آمدید کہتی لیکن یہ کیا؟
سارا سلسلہ الٹا جا رہا ہے ۔۔ کیا ہے وجہ؟
میں نے دیکھا ہے جتنی سائنس ترقی کررہی اتنی رفتار سے انسان مین درندگی بڑھتی جا رہی ہے۔ وجہ کیا ہے؟
پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم پھیلے، اسکول کھلیں تو مساوات ہوجائے گی، حقوق کی بانٹ یکساں ہوگی، لیکن یہ کیا؟
تم مردوں کو تو ایک پل چھوڑو، لڑکیوں کی ہی تعلیم کو دیکھو! یہاں لڑکیوں میں تعلیم کتنی ہے؟ میرے حساب سے تو دو فیصد بھی نہیں!
کیونکہ جو صرف آٹھویں یا میٹرک تک اسکول جاکر ان سے اگلے ابواب چھینے جائیں تو یاد رکھنا وہ ایک ان پڑھ لڑکی سے زیادہ خطرناک ہوگی۔۔۔ ایک ان پڑھ لڑکی اتنی باغی نہیں ہوسکتی جتنی یہ نیم پڑھی لکھی لڑکی ہوگی!
یاد رکھو! اس کے پاس آدھا سچ رہ جاتا ہے اور یہ پورے معاشرے کو تباہ کرسکتی ہے۔۔۔ میری بات دھیان میں رہے۔۔۔ یہ رنکلیں، یہ لتائیں، یہ آشائیں، یہ آمنائیں، یہ سب کی سب سماج کے ایٹم بم بن رہی ہیں!
تو جو پوری تعلیم پا بھی لیتی ہیں تو کل دو فیصد ہی ہوسکتی ہیں۔۔۔ لیکن مغرب تو سئو فیصد تعلیم یافتہ ہے، وہاں تو مکینیکل انجنیئرنگ کی بھی دگریاں عام لڑکیوں میں دیکھی جاتی ہیں۔۔۔ لیکن کیا وہاں واقعی عورت نے مرد سے برابری کر لی ہے؟ اپنے حقوق لے لیے ہیں؟
کبھی نہیں! وہاں بھی سیکس کی علامت ہے، وہاں بھی وہ بس ایک اشتہار ہے۔ جس طرح سوٹ بوٹ پہنے گورے تمہیں ملتے ہیں ٹھیک اسی نسبت سے الٹا عورت جب تک ننگی نہ ہو تب تک وہ دقیانوسی کہلوائے گی! مطلب صاف ہے تعلیم برابری نہیں دے سکتی۔۔۔
تو پھر کیا ہے؟
اب ذرا اوپر شاہ عبداللطیف بھٹائی پر آتے ہیں! تو وہ کیا کہتا ہے؟ کہ رہا ہے اس جگ میں کہیں بھی کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو اس مٹی میں نہیں، جو مجھ میں نہیں ہے!
یعنی سب کچھ میرے اندر ہے۔۔۔ یہ سونا، یہ نباتات، یہ معدنیات، یہ عرش یہ فرش، یہ حلال یہ حرام۔۔۔۔ سب کچھ۔۔۔
یعنی کچھ بھی باہر ایسا نہیں جو ہم میں نہیں ہے! اور یاد رکھو، تم جسے بیماری کہتے ہو وہ اصل میں ہوتی ہی یہی ہے کہ تمہارے جسم میں کچھ کم ہوا ہے۔۔۔
یعنی توازن بگڑا ہے۔۔
تو تم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو۔۔ اور وہ دیکھتا ہے، بڑی جانچ پڑتال کے بعد وہ "مطلوبہ کمی” کھوجتا ہے۔ اور پھر وہ دوائی دیتا ہے جو تمہارے اندر کم ہوئی ہوئی ہے۔۔ کبھی سوچا؟
لیکن ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ باہر کو کھوجنا ہے۔ اوروں کو کھوجنا ہے، اوروں کے کرتوت دیکھنے ہیں اور پھر لاجواب قسم کی بکواس کرنی ہے۔۔۔
اپنا آپ وہ ہی کنوارا، بلا جانچے، بلا سمجھے۔۔۔ مرجاتا ہے۔۔ اور ٹھیک یہی کمی ہے کہ یہاں انسان اوروں کا درد کیوں نہیں سمجھ رہا، اوروں کی کیفیت کیوں نہیں جان پا رہا۔۔ کیونکہ ہم نے خود کو جانا ہی نہیں ہے۔
سائنسدان سے اب تک جو سب سے بڑے خماقت لاحق ہوتی جا رہی وہ یہی ہے کہ:
"وہ پتھر کو چھوڑ کر پہاڑ کھوجنے چلا ہے”
کبھی سوچا؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دائرے کی زیرو پر ہی کھڑے رہو اور اس خوشفہمی میں رہو کہ تم 360 ڈگری پر پہچے ہوئے ہو! بلا چکر کاٹے، بلا اپنا طواف کیے، بلا اپنا آپ کھوجے!
تبھی تو کہتا ہوں، لوک دانش کو سمجھو! تمہیں باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی!

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے کلام "شاہ جو رسالو” کے "سر سُہنی” میں ایک جگہ پورے جگت کا کیا فلسفہ، کیا تکمیل کی انتہا کیا کمال کی بات کہی ہے۔ پہلے سندھی میں سن لیں:"سو نه ڪَنهن شَيءِ ۾، جيڪِي مَنجِھ تُرابَ”کیا کہ رہا ہے…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔