AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 31, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

جنس (سیکس) جو ایک گالی نہیں بلکہ قابلِ اعزاز فعل ہے، بس کہ سمجھیے!

جنس پر لکھا ہوا یہ انتہائی بالغ کالم شروع کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ کچھ حقائق پر مشتمل سچے واقعات رکھے جائیں۔ تو سب سے پہلے یہ واقعہ سُن لیجیے:دو بچوں کی ماں، پانچ دنوں سے حسب معمول نہیں نہائی تھی۔…

مرکزی نکتہ

جنس پر لکھا ہوا یہ انتہائی بالغ کالم شروع کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ کچھ حقائق پر مشتمل سچے واقعات رکھے جائیں۔ تو سب سے پہلے یہ واقعہ سُن لیجیے:دو بچوں کی ماں،…

جنس پر لکھا ہوا یہ انتہائی بالغ کالم شروع کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ کچھ حقائق پر مشتمل سچے واقعات رکھے جائیں۔ تو سب سے پہلے یہ واقعہ سُن لیجیے:
دو بچوں کی ماں، پانچ دنوں سے حسب معمول نہیں نہائی تھی۔ گھر کے کام کاج، گھاس پھوس وغیرہ اتنے کام کہ نہانا بھی تھکا دینے والا کام لگتا۔ اسے اپنے میکے جانا تھا، وہاں شادی تھی۔ سہ پہر کا وقت ہوگا، گھر میں سوائے اس کے خاوند کے کوئی اور نہیں تھا۔ چھوٹا بچہ سو رہا تھا، بڑا پہلے ہی سے ننہیال پہنچ گیا تھا۔
بیوی نہانے کے لیے تیار تھی کہ اچانک کچھ یاد آیا۔ اور اپنے شوہر کو آہستگی سے کہنے لگی:
"میں نہانے جا رہی، اگر منہ کالا کرنا چاہو تو کردو۔ نہیں تو پھر نہانا پڑے گا۔”
یقین جانیے، اسے آپ لطیفہ مت سمجھئیے گا۔ یہ واقعہ میرے ایک قریبی دوست کے ساتھ ہی پیش آیا تھا۔ دوسرا واقعہ کچھ یوں ہے کہ:
شادی کی پہلی ہی رات دولہا اور دلہن اپنے حجلہِ عروسی کے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ باتیں کیا کرنی تھی، جیسے کوما، فل اسٹاپ، عجب کی نشانی اور کیا۔۔۔۔ دونوں شرمیلے!
کچھ دیر کے بعد دولہے نے پہل کرکے کروٹ بدلی اور اپنی دلہن کو بانہوں میں بھرا۔ اُس کے چہرے سے ناپسندگی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے، کہ دولہے اپنا ہاتھ دلہن کے پستان پر رکھ کر اسے پکڑا کہ اچانک بگ بینگ ہوگیا۔
دلہن سے اپنے ہاتھ سے اسے نہ صرف پرے کیا بلکہ اپننے ہاتھ کی پشت دولہے کے ناک پر اس زور سے ماری کہ نکسیر بہنے لگی۔ وہ ہانپ رہی تھی۔ چیخی اور روکر دھاڑی: "سوئر کی اولاد! ایسی مذاق مجھ سے میرے سگے بھائیوں نے نہیں کی تو تُو کون ہوتا ہے حرامی۔۔۔۔”
یہ واقعہ بھی ہمارے سماج میں ایک گریجوئیٹ لڑکے سے ہوا ہے، جو ایک دن بڑی مایوسی سے اپنی انتہائی نجی بات مجھ سے بانٹ رہا تھا۔
تیسرا واقعہ بھی سُن لیجیے کہ:
سردی کا موسم تھا۔ تین بچوں کی ماں صبح سویرے ہی آٹا گوندھنے سے پہلے نہانے چلی گئی۔
کافی دیر کے بعد جب وہ برآمد ہوئی تو نند نے ٹوکا۔
صبح صبح نہانے کی لگ گئی تمہیں، آٹا کون گوندھے گا؟
تو اس عورت نے جواب دیا: "میں کیا کروں، رات کو ‘اُس’ نے بُرا کام جو کیا تھا۔۔۔ تو ایسے ہی پلیتی میں آٹا گوندھوں کیا؟”
یہ بھی واقعہ ہمارے ہی ہاں ایک گھر میں پیش ہوا جسے چادر تانے ہمارا دوست (جوکہ نام نہاد "منہ کالا کرنے والے” شوہر کا بھائی ہے) اس نے بتایا تھا۔
بات کو بڑھانے کے لیے آپ یہ بھی دیکھیے کہ ہمارے ہاں گرمیوں کے دنوں میں ایک ایک پیڈسٹل پنکھے کے آگے سات سات یا آٹھ آٹھ چارپائیاں ہوتی ہیں، جہاں پر گھر کے بچے، بوڑھے، جوان بالغ، میاں بیوی وغیرہ سوتے ہیں۔
اچھا بجلی کے بحران کی وجہ سے ہوتا کیا ہے کہ پنکھے کا سوئچ کھول کر رکھا جاتا ہے کہ جیسے ہی ایک دو گھنٹے کے لیے بجلی آجائے تو کسی کو پنکھا چلانے کے لیے اٹھنا نہ پڑے۔
ایسی ہی صورتحال میں ایک دن میاں اور بیوی کو اپنی حاجت کا خیال آیا۔ اب جو حالت اوپر بیان کی گئی، اس میں دونوں کا یکساں اٹھنا ایسے ہی ہوگا جیسے اغوا کی واردات ہو رہی ہو۔
خیر، تو وہ بچ بچاکر ڈرتے ہوئے اٹھے، اندر برآمدے میں گئے۔ ابھی وہ یک تن ہی نہ ہوئے کہ اچانک آنکھوں کو خیرہ کرتی بجلی آگئی۔
ٹیوب لائیٹ ایک دو جھماکوں سے جیسے ہی مکمل روشن ہوئی تو بڑا دھماکہ ہوگیا۔
برآمدے میں پہلے سے دوسرے کونے میں "ابا” اور "اماں جی” سہمے اور سکڑے ہوئے الف ننگے چٹائی پر ان کے "فراغت” اور باہر جانے کا انتظار کر رہے تھے، کہ بجلی آگئی اور بھانڈہ پھوٹ گیا۔

اسی سلسلے کی طرح ہمارے پڑوسی گائوں کا ایک رشتیدار کراچی نوکری کرنے سے پہلے محنت مزدوری کرکے اپنا وقت اور زندگی گذارتا تھا، پھر ہُوا یوں کہ نوے میں اسے اسے سرکاری محکمے میں اچھی ملازمت مل گئی۔ اسے تین بچے تھے۔ انتہائی سادہ اور تھوڑا بہت غیر حاضر دماغ۔ بچے بڑے پیارے تھے لیکن تھوڑا سا گم سم رہتے تھے۔
خیر ، پہلے پہل تو عام طور پر وہ کراچی رہنے لگا، مہینہ دو مہینے کے بعد گائوں آتا، پھر سرکاری کوارٹر ملا تو بچے بھی کراچی منتقل کرکے اب گائوں میں عید برات پر آیا تو ٹھیک نہیں تو کُل پیراں دی خیر!
اچھا کراچی منتقل ہونے کے بعد اسے دو اور بھی بچے ہوئے۔ یہ جو کراچی میں پیدا ہوئے، وہ ذرا سا گورے، طبیعت کے تیز اور اچھل کُود والے نکلے۔
اسکول جانے لگے، تو سب نے یہ محسوس کرلیا کہ چھوٹے بچے تیز اور ہوشیار ہیں جبکہ بڑے والے ڈرے ڈرے سے رہتے تھے۔
اب ایک اوسط درجے کے خانگی اسکول میں وہ پڑھتے۔
لیکن بچوں کی روش وہ ہی رہی جو پہلے تھی۔ ایک دن اس نے ہم جیسے چار پانچ دوستوں کی دعوت کی، اس کے بچے آئے، ہم سے ملے۔ ہم سب دوستوں کے درمیاں اچانک یہ موضوع کھلا کہ یہ کیا ماجرا، جو بڑے بچے اتنے نروس کیوں ہیں اور چھوٹے اتنے پھرتیلے کیوں؟
تو اس نے ہنس کر جواب دیا کہ: کیونکہ بڑے میڈ ان گائوں ہیں اور چھوٹے میڈ ان کراچی ہیں!
میرا خیال ہے کہ یہ مذاق نہیں بلکہ سئو فیصد درست کہ رہا تھا۔
دیکھیے! ماہرینِ نباتات کیا کرتے ہیں کہ ہر برس کوئی نہ کوئی اجناس کی ورائٹی کے بیج متعارف کراتے ہیں۔ گندم ہو یا کپاس، دھان کے بیج ہوں یا سبزیوں کے بیج نیز ایسے ایسے بیج لاتے ہیں کہ جنہیں ممکنہ سنڈیوں اور مختلف قسم کی بیماریوں کے لگنے کے مواقع کم سے کم ہوتے ہیں، زراعتی شعبے سے منسلک لوگوں کو زیادہ سے زیادہ منافع ملے اس لیے ایسی اجناس لائی جاتی ہیں کہ جو کم سے کم ایراضی والی زمین میں بھی زیادہ سے زیادہ مقدار میں فصل مل جائے۔
اچھا یہ سب سائنسی طریقے سے نئی نئی اجناس متعارف کروانے میں انہیں برسہا برس کی محنت درکار ہوتی ہے، ایک جنس کو دوسری جنس سے ملاپ (ریپروڈکشن) کرانے میں انہیں جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ تصوارت سے باہر ہیں۔ لیکن وہ بہتر سے بہتر بیج دے ہی دیتے ہیں، اور دیتے رہتے ہیں۔
اچھا میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ مویشی پالنے والے لوگ اپنی بھینسوں، بکریوں، گائے، یا بھیڑیوں کے لیے چن چن کر اور خاص اقسام کے بھینسے (سانڈ) بکرے، بیل اور دنبے وغیرہ رکھتے ہیں۔ دیہاتی لوگ اپنی مویشی سے زیادہ دودھ اور بہتر نسل کے اور جانور جنانے کے لیے دور دور تک پوچھ پوچھ کر بہترین "نر” تلاش کرکے اس سے اپنی مادہ مویشی کو سیراب کرواتے ہیں۔ مزے کی بات کہ سیراب کرنے سے پہلے وہ نر اور مادہ کو جلدی ملنے نہیں دیتے بلکہ انہیں اس طرح ملایا جاتا ہے کہ وہ ملنے سے پہلے تھوڑا اور مست ہوجائیں۔۔۔ تاکہ ملاپ زبردست ہو اور بہترین نتیجہ دے سکے۔
کتے اور اس طرح کے شکاری جانور پالنے والے شوقین قسم کے لوگ بھی اسی روش کو اپناتے ہیں۔ انسانی سماج میں یہ بات بڑی دیدنی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دودھ اور بہترین قسم کی مویشی کے لیے دور دور سے نر ہاتھ کرتے ہیں، تیز ترین اور چست شکاری جانوروں کے لیے مادہ جانور کے لیے چست ترین نر کھوجتے ہیں۔
لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ کمال کے انسان برآمد کرنے کے لیے، ذہین ترین اور قوتِ مدافعت سے بھرپور جسم لیے نئے بچوں کے لیے، اور سب سے بڑی بات تعمیری سوچ رکھنے والے اور پر امن نسلوں کے لیے انسان اتنا گرا ہوا ہے کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا!
میں تو اس حد تک کہتا ہوں کہ انسان بہت ترقی کر چکا ہوتا، پر امن سماج کے سنگ میل گاڑ چکا ہوتا اگر وہ اپنی نسلی افزائش کے لیے بہترین اور موافق جوڑے بناتا، لیکن یہاں تو بچوں کی شادیاں ایسے کرائی جاتی ہیں جیسے کوئی قرض تھا، اور تبھی تو یہاں ہر باپ بیٹی بیاہتے ہوئے کہتا ہے سر سے بوجھ اتر گیا! یہ بوجھ تھا جو اب دوسرے کے کندھے پر رکھا گیا! تو خاک اچھی نسل نکلے گی؟
جنیاتی ماہرینِ جدید ترین سائنسی اوزار اور دقیق ترین تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں، اولاد کا ہونا فطری عمل اور اس سے ہونے والے رد عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے کسی الہام، آسمانی رحمت یا غیر مرئی قوت کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کا اس میں عمل (یا بقول مشتاق احمد یوسفی کے حمل) دخل ہوتا ہے۔
ہوتا کیا ہے کہ مادہ انڈے اور نر تخم میں ایک ایک نیوکلئیس اور تیئیس تیئیس کروموسوزمس ہوتے ہیں، اور جب انڈے اور تخم کا ملاپ ہوتا ہے تو نیوکلئیس دونوں ملکر ایک ہوجاتا ہے لیکن مردانہ کروموسوزم جوڑوں کی شکلوں میں ہوجاتے ہیں۔
یعنی ٹوٹل چھیالیس کروموسومز ہوتے ہیں (تیئیس مرد کے اور تیئیس عورت کے) اور جب وہ جوڑے بنتے ہیں تب تیئیس جوڑے کہلوائیں گے۔
جدید تحقیق سے اب ایک پیڈورا پاکس سا کھل گیا ہے اور روایتی کافی باتیں تہس نہس ہوگئی ہیں۔
اب پتہ چلا ہے کہ ان تیئیس کروموسومز میں صرف چھ (6) جوڑے "فینو ٹائیپ” اور "جینو ٹائیپ” ہوتے ہیں یعنی جن میں ماں اور باپ یا دادا پردادا تر دادا ، یا نانا نانی پر نانا وغیرہ کی جسمانی ساخت اٹھاتے ہوئے آتے ہیں بشمول نین نقش، رنگ بت وغیرہ۔۔۔ لیکن پورے کے پورے سترہ جوڑے نفسیاتی رویہ لیکر آتے ہیں۔
اور نفسیاتی رویہ کون سا؟ آپ حیران ہوجائیں گے کہ وہ رویہ جب مرد اور عورت جنسی عمل سے گذر رہے ہوتے ہیں ٹھیک اسی وقت کا رویہ! مستول نفیساتی رویہ بھی نہیں بلکہ سیکس کو دوراں جو رویہ غالب ہوتا ہے، دونوں کا، مرد کا عورت کا۔۔۔ وہ رویہ۔۔۔ انسانی ڈھانچہ بنتے وقت پورے کے پورے نفسیاتی رویے، تخلیقی یا بربادی، تعمیری یا تخریبی، خوف، ڈر، پہل کاری، ہوشیاری، مغموم، ظلم و ستم، جبر و تشدد، نیز سب کے سب رویے کون سے منتقل ہوتے ہیں؟ ماں یا باپ کے مستقل نفسیاتی رویے نہیں، بلکہ ٹھیک اس وقت کے جب یہ حضرت سیکس عمل میں ہوتی ہے!
کتنی کاہلی سے، کتنی مردہ دلی سے، کتنے ظلم سے، کتنے جبر سے کتنی سرد مہری سے یا کتنی خوش اسلوبی سے، کتنی والہانہ نمونے سے وغیرہ یہ عمل ہوتا ہے، کس قدر تیاری ہوتی ہے اس عمل کی سب کے سب رویے آنے والے بچے کے دماغ میں ونڈوز کی طرح انسٹال ہوتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ آپ سب میرے گذشتہ "لمبروں” میں لطائف ٹائیپ حقائق سن کر اور اپنے آسپاس دیکھ کر مشاہدے کرکے محسوس کر ہی چکے ہونگے کہ ہماری یہ آواری نسل، بلکہ "متاثرینِ واقعات” کی نسل کی اصل خرابی کہاں ہے، جسے ہم اور آپ "مینوفیکچرنگ فالٹ” کہتے ہیں۔
آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں اس نسل سے؟ جن کے نفسیاتی سانچے ہی ٹوٹے پھوٹے، کہ جن کا کوئی سرا نہیں ملتا، ایسے ڈھانچوں سے آپ کس "انقلاب” کی بات کر رہے ہیں؟
میں اس لیے کہتا ہوں کہ خود کو زلالتوں کی انتہائوں کے لیے اب تیار رکھیں، کیونکہ ٹھیک ایسی حالات کے بعد ہی دوبارہ زیرو شروع ہوتا ہے۔ جب آپ ظلمتوں کی 360 تک پہنچ جائیں، جب آپ زوال کی آخری حد کو چھولیں۔۔ تب تک کچھ نہیں یہاں بدلنے والا!
کسی عزم سے، کسی سیاسی یا سماجی نعرے یا کسی مذہب سے آپ اس نسل کو ٹھیک نہیں کر سکتے!
وقت آنے دیں، جن یہ نسل اچانک خود محسوس کرے کہ فالٹ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اور وہ فالٹ ختم کرکے اس سیکس کو ملکیت یا صرف تسکین تک ہی محدود نہ کریں بلکہ یہ سمجھیں کہ ہم "بذاتِ خود انسان ساز” ہیں، کوئی اور نہیں۔

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

جنس پر لکھا ہوا یہ انتہائی بالغ کالم شروع کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ کچھ حقائق پر مشتمل سچے واقعات رکھے جائیں۔ تو سب سے پہلے یہ واقعہ سُن لیجیے:دو بچوں کی ماں، پانچ دنوں سے حسب معمول نہیں نہائی تھی۔ گھر کے کام…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔