AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 2, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

نوحہ روزگار

اب کی بار دو مہینے گذر گئے! یعنی باسٹھ دن..! اور ایک دن میں چوبیس گھنٹے! اور پتہ نہیں کتنے ارب لمحے! اور یہ ظالم لمحے…. جن سے سدا کا ڈر رہتا ہے میرے دل میں. آج میں اپنے گھر جا رہا…

مرکزی نکتہ

اب کی بار دو مہینے گذر گئے! یعنی باسٹھ دن..! اور ایک دن میں چوبیس گھنٹے! اور پتہ نہیں کتنے ارب لمحے! اور یہ ظالم لمحے…. جن سے سدا کا ڈر رہتا ہے میرے…

اہمیت

یہ تحریر ایک وسیع کثیر لسانی علمی آرکائیو کا حصہ ہے، جو قارئین، محققین اور AI systems کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اب کی بار دو مہینے گذر گئے! یعنی باسٹھ دن..! اور ایک دن میں چوبیس گھنٹے! اور پتہ نہیں کتنے ارب لمحے! اور یہ ظالم لمحے…. جن سے سدا کا ڈر رہتا ہے میرے دل میں. آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں! میں وقت سے ڈرتا ہوں، میں لمحوں سے ڈرتا ہوں، جو ہمارے آنسؤں کے نوحے ہر وقت گنگناکر اپنے آسیبی وجود سے ڈراتے ہیں! ان لمحوں میں، میں اپنی گذرتی بے سود حیات کا ماتم سسکتے دیکھتا ہوں! اپنے آپ کو یونانی کردار "”سسیفس”” کی بے سبب محنت کا مزدور سمجھتا ہوں!”
آج کے دور کا "”پوسٹ پیڈ”” خریدا ہوا غلام! جس کی محنت پر، بڑے پیٹ والوں کا بئنک بیلینس اور میری ٹھنڈی آہوں میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے! میں جب گاڑی ڈرائیو کرتا ہوں تو انہیں خیالوں میں کھوجاتا ہوں! گاڑی ایک خودکار سسٹم کی طرح کس طرح چلتی ہے، مجھے نہیں پتہ!… آتا ہوگا کوئی فرشتہ!…
آج فیاض کو چھوڑدو! آج وہ اپنے آپ سے مل رہا ہے… سو اسے اکیلا کرو، فرشتہ "”کیا حکم ہے میرے آقا”” کہ کر میرے اندر رگ رگ میں چلا جاتا ہوگا، اور گاڑی چلاتا ہوگا…… اور میں اپنی اس ہستی سے سات گھنٹے بیٹھ کر باتیں کرنے لگ جاتا ہوں، روتا ہوں، گلے لگ کر تڑپ اٹھتا ہوں، جو میرے ساتھ امی کی کوکھ سے نکلی تھی! جو میں تھا! میری "”میں””! اسی نے اچانک کہا، جاؤ، اب باہر دیکھو، ہمارا گاؤں آگیا!
میں نے دیکھا کہ دور ہی سے وہ نیم کا درخت جیسے اپنی شاخیں ہلا ہلا کر بلا رہا تھا! "”فیضی! آجاؤ نہ! دیکھو میں بوڑھا بھی ہوگیا ہوں، پر میری چھاؤن وہ ہی ہے. میری شاخیں اب بھی گھنی ہیں، آجاؤ اور اپنی پینگھ ڈالو…. نہیں! اب تو تم بڑے ہوگئے ہو، بلکہ "”صاحب”” ہوگئے ہو! تم کیسے اب جھولوگے؟….”” اور میں نہ دیکھ سکا اس کی آؤ بھگت! اپنا سر جھکا لیا، میں اس نیم کے درخت کا بیوفا مجرم ہوں! اور مجرم سر ہی جھکاتے ہیں! نظریں پھیر لی! سامنے کھیتوں کی پتلی پتلی پگڈنڈیوں پر گاؤں کی کچھ عورتیں میری طرف انگلی اٹھا کر ایک دوسرے کو شاید کچھ بتا رہی تھیں! پتہ نہیں یہ مجھے کیوں لگا کہ جیسے وہ ایک دوسرے کو کہ رہی ہوں: "”وہ دیکھو! صاحب جا رہا ہے! جمالاں کا بیٹا! ہمارا ہو کر بھی ہمارا نہیں!….””
میری آنکھیں جھلملا گئی، منظر دھندلے ہونے لگے تب لگا دو آوارہ آنسؤ آنکھوں میں اٹک گئے تھے! گال پر نہیں گر رہے تھے! شاید وہ بھی کسی "”صلحٍ حدیبیہ”” کے تحت مکہ کی دھرتی پر نہیں جا سکتے تھے. میں نے اپنا سر ایسے ہلایا جیسے پکے بیر کے درخت کی شاخیں ہلا کر بیر گرائے جاتے ہیں! میرا گھر آگیا تھا! گاڑی سے اترا، پورے گھر کے بچے کورس میں گا رہے تھے. بابا آگئے، بابا آگئے…. ملتا ملتا امی کے پاؤں پر گر پڑا! یہ کیا؟ اپنے اندر جیسے بہت بڑا "”بگ بینگ”” ہوگیا!
پہلی بار مجھے لگا کہ امی بوڑھی ہوگئی ہے! اس کے پاؤں پر میں نے کھردرا پن دیکھا! امی جھکی، مجھے اپنی آفاقی بانہوں میں بھر لیا! اور میں رو پڑا! وقت رک گیا! وہ ظالم لمحے ساکت ہوگئے! سناٹا سا چھا گیا، بس چند سانسیں، چند سسکیاں…. (….یا مولا غازی علمدار….) "”بابا میرا نہیں روتا،….. کیوں روتے ہو پگلے….””
وہ خود اپنی آنکھوں میں پورا بحرٍ اوقیانوس سمائے مجھے ہی کہ رہی تھی کہ "”بابا میرا نہیں روتا..””
(میں پھٹ پڑا… امی میں بک گیا ہوں… مجھے نہیں پڑھنا تھا، میں پڑھ کر بھی کیا پا رہا ہوں؟ میں چند سکوں پر بک چکا ہوں! طوائف صرف ایک کوٹھے پر ناچتی ہے… پر ماں مجھے دیکھو! میرے ہزاروں کوٹھے ہیں، جہاں میں وہ کچھ کرتا ہوں، جسے میرا من نہیں مانتا! تم ہی کہتی ہو نہ کہ روزگار میں برکت ہوتی ہے… پر ماں آج اس کارپوریٹ مارکیٹ نے روزگار کہ روز گالی بنا دیا ہے! یہاں مجھے اپنے آپ کو بیچنا پڑتا ہے!.. ماں، میں تم سے دور ہوں، مجھے اس سوندھی سوندھی خوشبو کو بیچنا پڑ رہا ہے، جو تمہاری باتوں میں ہوتی ہے، جو بارش کے سبب چھت کے نالوں سے بہتے کچی مٹی ملے پانی میں ہوتی ہے… اور یہ سب مجھے دو ٹکوں کے عیوض دینے پڑ گئے!…..)
ایک ہلکی سی چپت گال پر لگی اور اپنے اندر چھوٹی سی شامٍ غریباں سے نکل کر امی کے سامنے پایا! وہ میرے آنسؤ پونچھ رہی تھی! اسے نہیں معلوم کہ اس کی آنکھیں بھی بھیگی تھیں! میں نے جھک کر امی کو چومنا چاہا، تو امی کے نیم نم ہونٹ میرے گالوں کو چومنے لگ گئے!
(یا خدایا! یہ امیاں، محبت میں اتنی فاتح کیوں ہوجاتی ہیں! کرہ ارض کجا، دونوں جہاں فتح کر لیتی ہیں…. اصل سکندر اعظم تو یہ ہوتی ہیں، محبت سے کائنات فتح کر لیتی ہیں اور وہ بھی ایک لمحے میں!)
مجھے ہوش نہیں رہتا جب امی کے پاس ہوتا ہوں! باہر بیٹھک پر گاؤں کے چاچا فضل ہوں یا خیر محمد! سب نے ہی تو مجھے عاق کردیا ہوتا ہے. ملتے ہیں، بہت تپاک سے، پر ان سب نے "”صاحب”” کہ کر اپنے ریوڑ سے مجھے دور کردیا ہے! کتنا سمجھاؤں کہ میں وہ ہی ہوں آپ سب کا فیضی! اپنے کپڑے میلے پہنتا ہوں کہ وہ مجھے اپنا سا پائیں، پر امی کہاں برداشت کرے، کہ پرانے کپڑے وہ بھی فیضی؟ ہم مڈل کلاسی لوگ! دنیا کے بہت بڑے منافق لوگ…. کوا چلا ہنس کی چال… ہنس تو نہ بنے، پر اپنا آپ بھی بھول گئے! آج جا رہا ہوں! میری امی حسبٍ معمول، نہیں ملے گی! پتہ نہیں کیوں!
باہر گاڑی میں بیٹھتے بڑا بھائی ایک پوٹلی میں بند دس میٹھی روٹیاں دےگا. "”امی نے….. "”. مجھے پتہ ہے! امی نے ہی بھیجی ہیں! اندر ایک دس روپے کا نوٹ بھی پڑا ہوگا، جس پر ہزاروں سسکیاں چھپی ہوئی ہونگی! نیم کا درخت پھر اپنی بانہیں ہلا کر مجھے الوداع کر رہا تھا! مجھے طعنے دے رہا تھا! دیکھو میں اب بھی بلا رہا ہوں تجھے! پر میں رکوں بھی تو! میں تو بک چکا ہوں! چند سکوں پر، اپنا سب کچھ داؤ پر لگ گیا!
گھر جاتا ہوں ، امی ملتی تو ہے، مگر وہ میری نیند! جسے "”زینیکس”” کی چار گولیوں کی رشوت نہ دوں تو نہ آئے گی! فرشتہ آگیا، اور میں اپنے من کے ساتھ گلے مل کر رودالی ہوگیا! اور نوکری کے نوحے الاپنے لگا! نوکر جو ٹھہرا!”

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

اب کی بار دو مہینے گذر گئے! یعنی باسٹھ دن..! اور ایک دن میں چوبیس گھنٹے! اور پتہ نہیں کتنے ارب لمحے! اور یہ ظالم لمحے…. جن سے سدا کا ڈر رہتا ہے میرے دل میں. آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں! میں وقت…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ امر فیاض کے کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد زبان، ادب، تہذیب، ڈیجیٹل یادداشت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔