محبت اسٹاک ایکسچینج کا ایک حصص
محبت… محبت… محبت!آئی لو یو!اربہا، کھربہا بار کہا اور سنا گیا جملہ!جسے اس کرہٍ ارض پر سب انسانوں نے کہا، سنا، اور جھیلا ہے.ہر کوئی خوش ہوا ہے جب یہی جملہ اسے کہا گیا، غمزدہ ہوا ہے جب یہی جملہ کسی اور…
مرکزی نکتہ
محبت… محبت… محبت!آئی لو یو!اربہا، کھربہا بار کہا اور سنا گیا جملہ!جسے اس کرہٍ ارض پر سب انسانوں نے کہا، سنا، اور جھیلا ہے.ہر کوئی خوش ہوا ہے جب یہی جملہ اسے کہا گیا،…
محبت… محبت… محبت!
آئی لو یو!
اربہا، کھربہا بار کہا اور سنا گیا جملہ!
جسے اس کرہٍ ارض پر سب انسانوں نے کہا، سنا، اور جھیلا ہے.ہر کوئی خوش ہوا ہے جب یہی جملہ اسے کہا گیا، غمزدہ ہوا ہے جب یہی جملہ کسی اور نے کسی اور سے کہا، یا اس کے کسی اپنے کو کہا کسی اور نے. یہ سوچ کے تڑپ اٹھتا ہے کہ اسے کیوں، یہ تو مجھے کوئی کہتا!
یہی جملہ جب ماضی میں کسی نے کہا تو، اس پر شعراء نے اپنے بیاض لکھ ڈالے، ان پر دیومالائی داستانیں بنائی گئی، لیکن جب یہی جملہ کسی نے “حال” میں بولا تو نام نہاد اخلاق کو جیسے دراڑیں پڑنا شروع ہوجاتی ہیں. زمانے کے سب مکتبٍ فکر اسے صفحہٍ ہستی سے اکھاڑ کر پھینکنے میں اپنا طرہٍ امتیاز سمجھتے ہیں. گولی نہیں تو گالی ہی سہی، گالی نہیں تو اس کے آباء اجداد کے شجرہ پر تبصرے شروع ہوجاتے ہیں.
یہ کون ہے جس نے یہ خرافات قسم کی بکواس کی… کہیں اس کے نانا یا دادے کے لچھن تو ٹھیک تھے؟ نہیں ہونگے… تبھی تو!!!
ہاں باقی وارث شاہ کہے ، بات کچھ لگتی ہے. ہیر اپنے شوہر سے سچی کیوں ہو، اس کا یارانہ تو رانجھے سے تھا نہ. ٹھیک! سب ٹھیک، وارث شاہ نے گایا ہے تو یقین سے اس میں بھی کوئی روحانی رمز ہوگی!
شاہ عبداللطیف بھٹائی اگر سوہنی پر ایک پورا سر لکھ بیٹھے، جو رات کی تاریکی میں اپنے شوہر کا بستر عاق کر کے اپنے عاشق مینہوال سے ملنے دریا پار کر جائے.
ٹھیک…..! بھلے جائے! بھٹائی نے گایا ہے. کسی ایرے غیرے نتھو خیرے نے نہیں!
ساری دنیا کا پیار اس شوہر کی نامراد، اور نافرمان بیوی کے ساتھ! اور خدا اس ساس کو جہنم رسید کرے، جس نے کچا مٹکا، پکے مٹکے کی جگہ رکھ کر اسے ڈبونے کی سازش کی تھی.
اس وقت تک میں اپنے ناچیز مطالعہ میں سولہ کتابیں صرف اس بحث کی پڑھی ہیں کہ “سوہنی اصل میں ایک روحانی کردار ہے، جسے عارف لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں”. مانا… ٹھیک فرماتے ہونگے، وہ مبصر حضرات! ہم نا عاقبت دہندہ لوگوں کو روحانی کشف سے مستفید کرنے میں، وہ ٹھیک ہی دلائل دیتے ہونگے!
لیکن حضرات! ایک جز کے کل سے ملنے کا ہمارے عارفوں نے بڑے اچھے کردار چنے!
اب اگر کوئی سر پھری لڑکی، اس کارپوریٹ میڈیا کے دور میں ایسا کرے تو؟
“سرٍ عام سنگساری…. پلیت حرکت…. سماج خطرے میں پڑ جائے گا..”
لیکن صاحبو! وقت رکا کہاں ہے! رک جائے تو وقت، وقت نہیں رہتا! وقت کا تو کام ہی چلتے رہنا ہے. یہی تو وقت ہے.
حق کی بات تو یے ہے کہ محبت رکی نہیں ہے. اسی سر فروشی سے آج بھی اسی غرور سے قائم دائم ہے.
ہو رہی ہے. نہ رکنے سے رکی، نہ سنگساری اسے رفتار کم کرنے میں آڑے آئی…
جہاں دیکھو محبت کا راگ گایا جا رہا ہے!
میاں بیوی سے کہتا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں، بیوی میاں پہ جتاتی ہے کہ اگر تو نہیں تو میں کیا؟
باپ بیٹے سے محبت کرتا ہے، بیٹی پہ جان نثار کرتا ہے. اور بدلہ میں یہی سننا چاہتے ہیں سب کہ جو وہ چاہتے ہیں!
پر کہاں ہے محبت؟
عجیب لگتا ہے!
بیچ بویا جاتا ہے محبت کا اور نکلتی ہے نفرت؟
اکہ دکہ اگر کچھ محبت کے آثار نظر بھی آتے ہیں تو کوئی مثال نہیں بنتی. اور اگر بنالی بھی جائے وہ مثال تو کون مانے گا اسے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ صدیوں سے جو ہم محبت کی تشریح سنتے آرہے ہیں، کہیں اس میں تو نہیں غلطی کر بیٹھے ہیں ہم لوگ؟ محبت کے نام پر کہیں ہم “قبضہ” تو نہیں کر رہے؟ دینے کی جگہ کہیں ہم لینا تو نہیں چاہتے! محبت کو کاروبار کی طرح نفعہ و نقصان کے ترازو میں تو نہیں تول رہے!
کہ بس میری مان! کہ میں ہی تو تمہیں چاہتا / چاہتی ہوں!
بس میں ہی صحیح!
بس تو مجھے ہی دیکھ!
کیا رکھا ہے کسی اور میں؟
اور اس قبضہ نے محبت کو زہر آلود کردیا ہے. محبت جیسے لطیف جذبے کو پابندٍ سلاسل کردیا ہے!
ایک اور بھی بات… آپ نے دیکھا؟ میں نے اب جب محبت کی باریکی میں دیکھا تب لگا کہ کتنی محبت آلودہ ہوگئی ہے! انسان نے شعور کی آنکھ سے جیسے ہی دیکھنا شروع کیا ہے، تب سے محبت کی غیر فطری تربیت اس نے اپنے آل و اولاد کو دینا شروع کی ہے. کہ : اس سے نہیں، اس سے محبت واجب! بڑوں سے محبت کرو، اپنے گروہ سے محبت کرو، اپنے ملک، اپنے مذہب اپنے اپنے…….!
اور اس اپنے اپنے کے راگ نے کیا رنگ دکھایا ہے وہ سب آپ جانتے ہیں!
کتنے لوگوں نے ان “سیکنڈ ہینڈ” اپنوں سے محبتیں کی ہیں؟ (سیکنڈ ہینڈ در حقیقت ان کے اپنے بھی ہو سکتے تھے، لیکن اگر ہم لوگوں نے انہیں اپنی مرضی سے جاننے دیا ہوتا نہ!)
بچہ کی نفسیات بچپن سے ضدی ہوتی ہے، وہ اپنا کرنا چاہتا ہوتا ہے، لیکن ھم کرنے دیں تو! میں کہتا ہوں کہ سب سے بڑے مارشلائی ڈکٹیٹر اور غیر جمہوری خود ھم ہی ہوتے ہیں! دی ہے آزادی ہم نے اپنے بچوں کو کبھی؟
انہوں نے اپنی کھوج کی کہاں ہوتی ہے؟ بچپن سے انہیں ذہنی معذور تو ہم نے ہی بنایا ہے! اپنی اول فول کسکیں ٹھونستے ہیں ان میں. جو ہم نہ کر سکے، اب میرا بچہ کرے! قبضہ! یہاں بھی قبضہ!
اور بچے ہمارے ڈفلی پر ناچنے والے بندر کی طرح ناچتے جاتے ہیں. (کوستے جاتے ہیں)
اسی طرح سچ تو یہ ہے کہ محبت کی جگہ ھم نے ان کے دماغی “ہارڈ ڈسک” میں محبت کا نہیں، چوری شدہ “انا” کا سافٹ ویئر انسٹال کردیا ہے. ایک بچہ نہیں، روبوٹ بنادیا ہے.
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بچہ صرف والدین کے خدوخال ہی لے کر آتا ہے؟
وہ بہت کچھ لے کر آتا ہے. اور صاحبو، وہ آپ سے بھی ذیادہ پروگرامز لے کر آتا ہے. لیکن ھم اس کو توڑ موڑ کر اپنے جیسا بنانے کے چکر میں تباہ کر دیتے ہیں!
کبھی سوچا؟ کبھی محسوس کیا؟
پھر وہ روبوٹ کچھ اور ہم سے لے یا نہ لے! ہاں، اپنی زہریلی انا لیکن انتقامی طور پر بہت لیتا ہے. ہم نے بچپن سے جو اسے “قبضہ” سکھایا ہے. میرا، میری، اپنی، اپنا!!!!
اب وہ محبت میں بھی میری، یا میرا…..
مجھے ملے، بس مجھے…..
“مل جائے”! یہاں غور طلب بات: کہ دوں نہیں، دینے کی تو کوئی بات ہی نہیں، بس لینا ہے!
لیکں محبت ملتی کہاں ہے!
دی جاتی ہے!
صرف محبت ہی کائنات کا وہ کاروبار ہے جس میں دینے والا ہی “ان داتا” ہوتا ہے، کامیاب ترین سودے باز ہوتا ہے.
اور لیا کیا جاتا ہے؟ لعن طعن! (تصوف میں اسے ملامتی کہا جاتا ہے)
اور جب یہ محبت عام ہوجائے تب کائنات محبت کا گہوارا ہو سکتی ہے. فی الحال تو محبت “اسٹاک ایکسچینج” کا ایک حصص ہے.
FAQ
اس تحریر کے اہم سوالات
یہ تحریر کس بارے میں ہے؟
محبت… محبت… محبت!آئی لو یو!اربہا، کھربہا بار کہا اور سنا گیا جملہ!جسے اس کرہٍ ارض پر سب انسانوں نے کہا، سنا، اور جھیلا ہے.ہر کوئی خوش ہوا ہے جب یہی جملہ اسے کہا گیا، غمزدہ ہوا ہے جب یہی جملہ کسی اور نے کسی اور…
اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟
یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔
یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟
یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔