AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 16, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

پبلک ڈمانڈ اور تخلیق و تحقیق

کتنا عجیب لگے گا جب آپ اپنے گھر کے ایک انتہائی پیارے فرد کو انتہائی نازک حالت میں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور وہ جب اس کا چیک اپ کرے تو اوپر سے آپ ڈاکٹر صاحب کو کہیں: "نہیں جی آپ…

مرکزی نکتہ

کتنا عجیب لگے گا جب آپ اپنے گھر کے ایک انتہائی پیارے فرد کو انتہائی نازک حالت میں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور وہ جب اس کا چیک اپ کرے تو اوپر سے…

کتنا عجیب لگے گا جب آپ اپنے گھر کے ایک انتہائی پیارے فرد کو انتہائی نازک حالت میں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور وہ جب اس کا چیک اپ کرے تو اوپر سے آپ ڈاکٹر صاحب کو کہیں: "نہیں جی آپ اس طرح اس کی قمیص اوپر نہ کریں، اور پیٹ تو دیکھئیے گا بھی مت کیونکہ پھر سبکی ہوجائے گی!
اور ہاں خبردار جو یہ بتایا کہ ہمارا لاڈلا یا بزرگوار کوئی بیمار شیمار ہوا ہے، اور اسے دوائی یا آپریشن کی ضرورت ہے۔ بھولے سے بھی اگر یہ کہا تو ہم تمہیں ماردیں گے، سمجھا؟ سو سن لیجئیے؛ یہ بالکل صحتمند ہے بس ایویں ہی سو گیا ہے۔”
یا آپ کی گاڑی چلتے چلتے اچانک رک جائے یا اس کی رفتار دھیمی ہوتی جائے، یا اس کے انجن سے عجیب سی آوازیں آنی شروع ہوجائیں اور آپ کو کوئی صاحب جس کو تھوڑا بہت گاڑیوں کے نقائص و خصلات کا پتہ ہو وہ بتائے کہ جناب اس کی انجن اب سروس مانگ رہی ہے اسے مکمل طور پر تبدیل کیا جائے یا اس کا فلاں عضوہ ناکارہ ہوچکا ہے تو آپ اس کے بال نوچنا شروع کردیں اور یہ عندیہ دیں کہ: گھٹیا ترین انسان، بیہودے آدمی یہ ہمارے پرکھوں کی چھوڑی ہوئی میراث ہے جو بنی ہی اس لیے تھی کہ اسے کوئی خرابی نہ ہو، یہ تو ہے ہی ایسی کہ اسے نہ زنگ لگ سکتا ہے نہ کبھی کوئی عضوہ ٹوٹ سکتا ہے چاہے ایک جاہل ترین ڈروائیور بھی اس کو کیوں نہ چلائے، لیکن یہ گاڑی بالکل ٹھیک ٹھاک ہی چلنی چاہیے حد تو یہ ہے کہ اس کا رنگ بھی خراب نہیں ہوسکتا اور تم بول رہے کہ اس میں خرابی آگئی ہے؟
کتنا عجیب لگے گا آپ کو یہ سب؟ اب ایسا ممکن ہے؟
اور جب ایسا ناممکن ہے تو ایسے لکھاریوں کو کیوں بُرا بھلا کہا جاتا ہے جو معاشرے کے ناسوروں کو ظاہر کرتے ہیں اور عمرانی علوم کی طرح چار اور چار ملا کر آٹھ بنتے ہیں والے حساب کی طرح بتاتے ہیں کہ ہم سے کہاں اور کیسے اور کن لوگوں سے یہ غلطیاں ہوئی تھی کہ جن کی وجہ سے ہماری یہ حالت ہے؟
اب وہ ڈاکٹر کی طرح مرض اور مستری کی طرح نقص بتائے تو وہ سامراجی پٹھو، وہ تو کمینہ بیغیرت دلا، زلیل گھٹیا حرام اور ناپاک۔۔۔۔
یہ آخر ایف ایم کے پروگرام "آپ کی فرمائش” کی طرح ہی پوری زندگی کو کیوں گذارنا چاہتے ہیں لوگ کہ جنہیں اب بتایا جائے کہ سب کچھ اس طرح بھی ٹھیک نہیں جیسے آپ ایک فرض بناکر چل رہے ہیں۔۔۔ ضرور یہاں غلطیاں ہیں کہ جہاں سے ہماری بربادی شروع ہوئی ہے!
کیا ان لوگوں کو ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ "درباری مؤرخوں اور آزاد مبصروں” میں کیا فرق ہے اور ہمارے حقیقی سجن کون ہیں؟ کیا ان لوگوں کو ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ "درد” دشمن نہیں ہوتا بلکہ دوست ہوتا ہے۔۔۔ کہ اگر اس کو ختم کیا جائے اور ایسے کہ دوبارہ ہو ہی نہیں تو ہماری زندگی بھی اس کے ساتھ ختم ہوجائے!
کیا ان کو اب تک یہ شعور نہیں ملا ہے کہ وہ زندگی کتنی کمزور اور تباہ کن ہوتی ہے جسے تنقید کا پانی نہ دیا جائے! کیا انہیں اب تک یہ ادراک نصیب نہیں ہوا ہے کہ علم کوئی پبلک ڈمانڈ نہیں ہوتا بلکہ یہ تو وہ ہتھوڑا ہوتا ہے جو سیدھا ہمارے دماغ پر پڑتا ہے۔ اور یاد رکھئیے گا، جس نے اس ہتھوڑے کی چوٹیں کھانا بند کردیں سمجھ لیں وہ خودکشی کرچکا، لیکن جس نے اپنے دماغ کو لوہار والی سندان بنائی جس پر علم کا ہتھوڑا برستا رہے تحقیق اس کا ہی منہ نور سے چمکے گا!
کیا کسی نے آج تک لوہار کے پاس وہ سندان نہیں دیکھی جس پر ہر روز ہزاروں بار ہتھوڑا برستا رہتا ہے لیکن اس کی چمک تو دیکھئیے، دن بدن نکھرتی جاتی ہے۔

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

کتنا عجیب لگے گا جب آپ اپنے گھر کے ایک انتہائی پیارے فرد کو انتہائی نازک حالت میں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور وہ جب اس کا چیک اپ کرے تو اوپر سے آپ ڈاکٹر صاحب کو کہیں: "نہیں جی آپ اس طرح اس…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔