AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 14, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

عورت سب جانتی ہے

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالو کے سُر لِیلا چنیسر میں ایک شعر فرمایا ہے:پُوچا ڏِٺَمِ پـيرَ، ڍَڪَڻَ مٿي ڍولَ جا؛مون ڀانيو تَنهِن ويرَ، ڪوجِھي ڪَندو پَرِيئَڙِي.سلیس اردو میں ایسے پڑھا جائے گا کہ:پُوچا ڈِتھم پَیر، ڈھکن مَتھے ڈھول جَامُون بَھانیَو تنہِن…

مرکزی نکتہ

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالو کے سُر لِیلا چنیسر میں ایک شعر فرمایا ہے:پُوچا ڏِٺَمِ پـيرَ، ڍَڪَڻَ مٿي ڍولَ جا؛مون ڀانيو تَنهِن ويرَ، ڪوجِھي ڪَندو پَرِيئَڙِي.سلیس اردو میں ایسے پڑھا جائے گا کہ:پُوچا…

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالو کے سُر لِیلا چنیسر میں ایک شعر فرمایا ہے:
پُوچا ڏِٺَمِ پـيرَ، ڍَڪَڻَ مٿي ڍولَ جا؛
مون ڀانيو تَنهِن ويرَ، ڪوجِھي ڪَندو پَرِيئَڙِي.
سلیس اردو میں ایسے پڑھا جائے گا کہ:
پُوچا ڈِتھم پَیر، ڈھکن مَتھے ڈھول جَا
مُون بَھانیَو تنہِن وَیر، کوجِھی کَندو پِریتڑی
ڈھیلے پائوں ڈھکن پر، دیکھے میں نے ڈھولے کے
جان لیا اس دم کہ، کیا خاگ ہوگا سنبھوگ اس سے
منظر کچھ یوں ہے کہ شادی والی رات مختلف رسومات ہوتی ہیں، وادی سندھ میں یہ رسم اب بھی دائم و قائم ہے کہ دولہا بارات لیکر جب دلہن کے کمرے میں آتا ہے تب دلہن کی بہن یا کوئی بھی رشتیدار دروازے کے پاس مٹکی کا ڈھکن (جو بھی مٹی کا ہی بنا ہوتا ہے اور آگ سے گذار کر اسے سخت کیا جاتا ہے مٹکی کی طرح) وہ الٹا رکھا جاتا ہے۔ دولہا اس ڈھکن کو اپنا پائوں اٹھا کر ایک چوٹ سے توڑتا ہے۔ اگر ڈھکن ٹوٹ جاتا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ دولہے میں جان ہے۔ اور اگر نہیں ٹوٹتا تو، سب یہی سمجھ جاتے ہیں کہ دولہا بس ایویں ہی ہے۔
تو یہ سارا منظر اب دلہن خود دیکھ رہی اور کہ رہی ہے کہ
میں نے دیکھا ہے کہ میرے ساجنا کی چوٹ سے ڈھکن نہیں ٹوٹا! اس کے پائوں بہت ڈھیلے ہیں، اس میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ میں تو اس ہی وقت جان گئی کہ مجھ سے کیا خاک ملن کرے گا!
اب آپ مندرجہ بالا واقعے کو ایک نہیں لاکھ بار روحانی برقعے پہنائو، یہ سب آپ پر انحصار ہے، لیکن کیا اس حقیقت سے آپ انکار کرسکتے ہیں کہ یہ لطیف ترین احساس جس پر ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، اربہا اربہا انسانوں کی امیدیں وابستہ ہیں!
یہاں سب کے سب چاہتے ہیں کہ ان کی نسل اعلیٰ مرتبے کے ساتھ جیتی رہے، لیکن کیسے؟
کیا بے طاقت، بے ثمر، بے محبت کے ساتھ یہ ہمبستریاں ایسی نسل دینے کی کوئی گارنٹی ہوتی ہیں؟ کبھی نہیں!
لیکن یہ سارہ ڈھانچا، یہ نسل انسانی کا قالب مرد نہیں بلکہ عورت ہے، وہ ہی جانتی ہے۔ وہ ہی سمجھتی ہے کہ مجھ میں کیا پنپ رہا ہے!
مجھ سے آپ پوچھیں تو میں کہونگا، کوئی بچہ خدا کی دین نہیں ہوتا بلکہ یہ ہم ہیں جو بہترین سے بہترین نسل اس پورے کرہ ارض پر بسنے والے غلامانہ ذہنیت کو دے سکتے ہیں، اگر ہم تہ دل سے اس جنس کو اہمیت دیں، اس کو عزت اور وقار دیں۔۔۔۔ اور اگر نہیں تو اب تک کیا ہو رہا ہے؟
یہ جاہل، یہ کوڑھ نسل، کہاں سے آرہی ہے؟
کبھی سوچا؟
کیونکہ تم نے تخلیق کی پہلی سیڑھی کو گالی بنادیا ہے، اور یاد رکھو، فطرت کی لاٹھی بہت بے آواز ہوتی ہے! یہ جب اٹھتی ہے تو تم سمجھ ہی نہ پائوگے کہ چوٹ کہاں سے لگی، اور اس کا اثر کتنے برس، کتنی پیڑھیوں تک تم پر چلتا رہے گا!

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالو کے سُر لِیلا چنیسر میں ایک شعر فرمایا ہے:پُوچا ڏِٺَمِ پـيرَ، ڍَڪَڻَ مٿي ڍولَ جا؛مون ڀانيو تَنهِن ويرَ، ڪوجِھي ڪَندو پَرِيئَڙِي.سلیس اردو میں ایسے پڑھا جائے گا کہ:پُوچا ڈِتھم پَیر، ڈھکن مَتھے ڈھول جَامُون بَھانیَو تنہِن وَیر، کوجِھی کَندو…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔