پیٹ خالی اور تصوف
جن کا چولہا دن میں تین بار اس لیے نہ جلے کہ گھر میں آٹا نہیں،جن کے گھروں میں دائمی مریض ہوں مگر اتنے پیسے نہ ہوں کہ کسی مستند ڈاکٹر سے علاج کروا سکیں،وہ اگر روحانیت کی بات کریں اور تصوف…
مرکزی نکتہ
جن کا چولہا دن میں تین بار اس لیے نہ جلے کہ گھر میں آٹا نہیں،جن کے گھروں میں دائمی مریض ہوں مگر اتنے پیسے نہ ہوں کہ کسی مستند ڈاکٹر سے علاج کروا…
جن کا چولہا دن میں تین بار اس لیے نہ جلے کہ گھر میں آٹا نہیں،
جن کے گھروں میں دائمی مریض ہوں مگر اتنے پیسے نہ ہوں کہ کسی مستند ڈاکٹر سے علاج کروا سکیں،
وہ اگر روحانیت کی بات کریں اور تصوف کا لبادہ اوڑھ لیں تو یقین جان لیجیے کہ ایسا معاشرہ سیاسی اور سماجی سطح پر مکمل ناکامی کا اعلان کر چکا ہوتا ہے۔
اس کیفیت میں نہ کوئی تصوف ہوتا ہے، نہ روحانیت۔
یہ سراسر خود کو دھوکہ دینا اور اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کا ایک نفسیاتی طریقہ ہے۔
اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ بھی ایک بیماری ہے، جس کی جڑیں معاشرے میں معاشی ناانصافی میں پیوست ہوتی ہیں۔
میرے حساب سے روحانیت کی طرف حقیقی معنی میں وہی شخص جائے گا جو مادی طور پر بھرا ہو، مگر اس کے باوجود زندگی اسے بے معنی لگے۔
ایسا فرد جب سوال اٹھاتا ہے تو اس کا سفر واقعی کارآمد اور انسان دوست ہوتا ہے۔
باقی جو بھوکا اور تن ننگا ہے، اس کا روحانی نعرہ دراصل صرف روٹی کا مطالبہ ہوتا ہے۔
یہ تصوف نہیں، ایک ڈھونگ ہے—جو پورے سماج اور ریاست کے منہ پر تھپڑ ہے۔
جس نے ظاہر کو ہی نہیں سمجھا، وہ باطن کو کیا سمجھے گا؟
جس نے اپنے بدن کے ساتھ انصاف نہیں کیا، وہ روح کے ساتھ کیا انصاف کرے گا؟
یہ تو ایسا ہی ہے جیسے ٹرانسفارمر سے بجلی کی تار تو گھر میں لا دی جائے،
مگر گھر میں نہ پنکھا ہو نہ بلب—
تو خاک روشنی ہوگی؟
۔۔۔
تصوف میں، جوہر کے حساب سے، ایک بنیادی خامی یہ رہی ہے کہ وہ فطرت کے عجائبات میں ہی کھو گیا؛
یا یوں کہیے کہ وہ باچھیں کھول کر محوِ حیرت ہو گیا۔
اس کے برعکس سائنس نے انہی عجائبات سے سوال کیے، جواب تلاش کیے، اور آگے بڑھتی رہی۔
اسی لیے سائنس کا سفر رکا نہیں:
وہ راز افشا بھی کرتی گئی، اور انہی رازوں کو چکما دے کر کام بھی نکالتی رہی—
جسے ہم ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔
یہ نفسیات کا ایک چھپا ہوا پہلو ہے کہ جب انسان بھوکا ہوتا ہے تو وہ فینٹیسی میں چلا جاتا ہے،
وہاں سے ایکسٹیزی،
اور پھر خودکلامی اور تصوراتی دنیا کی تخلیق شروع ہو جاتی ہے—
یوفوریا اور ہیلوسینیشن۔
میرا خیال ہے کہ انسانی تہذیب اور اس کے مادی مظاہر میں تبدیلیاں
انسان کو تعجب، ایکسٹیزی اور یوفوریا کے بیچ لا کھڑا کرتی ہیں،
جہاں وہ شاعر بن جاتا ہے، کہانی کار، مصور یا بت تراش—
یا پھر وہ ادب تخلیق کرتا ہے
جس کا سائنس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
کیونکہ سائنس بلاغت نہیں، حقائق پر مختصر بات کرتی ہے۔
۔۔۔
تصوف جب مابعدالطبیعات کی آغوش میں سر چھپاتا ہے
تو وہ اس درخت کی مانند ہوتا ہے
جو نہ چھاؤں دے نہ پھل۔
لیکن جب وہ دنیا کے مظاہر میں ظاہر ہوتا ہے
تو کمال کر دکھاتا ہے۔
اس کے برعکس، مذہب جب مابعدالطبیعات میں رہتا ہے تو کمال کرتا ہے—
اور اسے وہیں رہنا چاہیے۔
مگر جب یہی مذہب دنیا کے مظاہر میں اپنی ٹانگ اڑاتا ہے
تو وہ نہ پھل دیتا ہے نہ چھاؤں،
بلکہ خاردار درخت بن جاتا ہے۔
مسئلہ سارا ظلم کا ہے۔
جسے جہاں ہونا چاہیے، اگر اسے وہاں سے نہ ہٹایا جائے
تو یہی سب سے بڑا کرم ہوگا۔
۔۔۔۔
بھائی بند لوگ جب مے خانوں کے کلچر میں ہابی کی طرح گھسنے لگے
تو معلوم ہوا کہ ہمارے مذہب میں ایک عدد
“ٹرائٹسکی ٹائپ تصوف” بھی موجود ہے۔
ایسا تصوف جو اپنے وقت میں
ظالم، جابر اور سماجی جمود کے خلاف اٹھ کر کھڑا ہوا،
اور باری آنے پر مذہب کو بھی طلاق دے کر کہہ دیا:
“ہم اس کے آگے جھکیں گے جو آدمیت کو مانتا ہو۔”
لیکن جب آنکھ کھول کر دیکھا
تو بڑی بڑی مسندوں پر بیٹھے بابے،
گدی نشین دادے نانے
ایک بالکل مختلف سماج بپا کیے بیٹھے تھے۔
غریب ناداروں کی چونیوں سے لے کر
امراء کے نذرانوں تک،
سونے اور جواہر کی عبائیں ان کے جسموں پر تھیں۔
یہ لوگ وقت کے یزید کو بھی اپنا بنا کر چلتے رہے،
اور حسینیوں سے کہتے رہے:
“ٹھہرو! تم لوگوں کو ولایت کے راستے کا کیا پتا—
یہ وقتِ آزمائش ہے، چلنے دو!”
اب بتائیے:
اگر یہ ٹرائٹسکی ٹائپ لوگ بھی سامراج کا ہتھکنڈہ بن جائیں
تو کیا ہم بنسری، مرلی اور شہنائی پر تصوف کے نوحے گائیں
یا گیتوں پر ناچیں؟
۔۔۔۔
جنگوں کی نجکاری دہشت گردی پیدا کرتی ہے؛
مذاہب کی نجکاری ملائیت پیدا کرتی ہے؛
سیاست کی نجکاری کرپشن پیدا کرتی ہے؛
تصوف کی نجکاری توہمات پیدا کرتی ہے۔
دوستو!
یہ نجکاری ایک شدید بیماری ہے—
جو انسانی معاشرے کو سوائے بگاڑ کے کچھ نہیں دیتی۔
۔۔۔۔
سرابی حقیقت (Hyper Reality)
نیل گگن سے بھی دور پرے
بلھا شاہ اب چرخہ
ڈھانپ کر نیند کو بھی سُلا رہا ہے
کیونکہ اس کی قوم اب
Jean Baudrillard
کی سرابی حقیقت کے نشے میں مدہوش
پینافلیکس کے تیز، بدبو دار بینرز تلے
بڑے بڑے حروف میں
“کی جاناں میں کون” لکھوا کر
ایک مصنوعی تصوف سے
انسانیت کو جگانا چاہتی ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
وہ سب انسان اور انسانیت کو
سوشل ڈارونزم کی چکی میں پیستے پیستے
جو تیل نکال رہے ہیں
اسی سے ہاتھ صاف کر کے
اب روبوٹ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں۔
FAQ
اس تحریر کے اہم سوالات
یہ تحریر کس بارے میں ہے؟
جن کا چولہا دن میں تین بار اس لیے نہ جلے کہ گھر میں آٹا نہیں،جن کے گھروں میں دائمی مریض ہوں مگر اتنے پیسے نہ ہوں کہ کسی مستند ڈاکٹر سے علاج کروا سکیں،وہ اگر روحانیت کی بات کریں اور تصوف کا لبادہ اوڑھ…
اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟
یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔
یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟
یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔