AMAR FAYAZ Language • Civilization • Artificial Intelligence

جنوری 14, 2026 · Urdu · اردو تحاریر

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں، لیکن کب؟

چالیس برس کی ریاضت، صداقت، ایمانداری، کردار، فہم و فضیلت، سخن اور لاتعداد اعلیٰ انسانی اقدار سے بھری ہوئی زندگی اہلِ عرب کو جہالت سے کھنگال کر نکالتی ہے جسے ہم سب رسول اکرم صلعم کے طور پر جانتے ہیں۔پھر تیئیس برس…

مرکزی نکتہ

چالیس برس کی ریاضت، صداقت، ایمانداری، کردار، فہم و فضیلت، سخن اور لاتعداد اعلیٰ انسانی اقدار سے بھری ہوئی زندگی اہلِ عرب کو جہالت سے کھنگال کر نکالتی ہے جسے ہم سب رسول اکرم…

چالیس برس کی ریاضت، صداقت، ایمانداری، کردار، فہم و فضیلت، سخن اور لاتعداد اعلیٰ انسانی اقدار سے بھری ہوئی زندگی اہلِ عرب کو جہالت سے کھنگال کر نکالتی ہے جسے ہم سب رسول اکرم صلعم کے طور پر جانتے ہیں۔
پھر تیئیس برس دنیا کو ہلادینے والا مذہب اپنے کمالِ حُسن سے سب کے دلوں پر راج کرتا ہوا، پورے مشرق وسطیٰ کیا فارس، سندھ، حتیٰ کہ مغربی ممالک میں بھی روشنی دیتا افریکا تک جا پہنچتا ہے۔ لیکن کس طرح سے؟
اُسوۃ حسنہ کی معرفت۔
قران پاک کی اقرا سے شروعات ہوتی ہے کہ "پڑھو”۔ اور پوری تیئیس برس کی تعلیمات کے بعد طئے پایا کہ اب بس، اب ختم، کہ اب مکمل ہوگیا، کہ اب اس میں کوئی رد و بدل نہ ہوگی۔ کیونکہ اب یہ مکمل ہوگیا۔
یہ اصولیات ہیں۔ یہ حدیں ہیں۔ اور ان کی عملی لیبارٹری اس کے اہلِ بیت!
اب ریاست کیا ہوتی ہے؟ ڈیموکریسی یا تھیوکریسی؟ سوشلزم یا کیپیٹلزم؟ اشرافیہ یا درباریہ۔۔۔۔ کیا چاہتے ہیں آپ؟ یہ انسانی اقدار کے معیارات کی معراج ہے، اس میں ان باتوں کو مت گھسیٹیں! دین دین ہے جس کا کام فرد کے اخلاق کو بلند کرنا ہوتا ہے، اسے ریاست کی چالبازیوں اور مکاریوں میں مت آلودہ کریں! تبھی تو پورے تیئیس برس کوئی ریاست نہیں بنی، کوئی مسند نہیں بنی، کوئی خلافت نہیں بنی، نیز کوئی وزارت، کوئی حکمت عملی نہیں تیار کی گئی۔۔ کیونکہ یہ ریاست نہیں تھا یہ مذہب تھا، یہ حکومت نہیں تھی یہ دین تھا!
اور تیئیس برس گذرجاتے ہیں۔
ظاہری طور پر اس کمالِ اعجاز کے شخص نے اِس فانی جہاں کو آخری دید اٹھا کر دیکھا اور اپنی آنکھیں مُوند لیں۔
اب اہلِ اسلام کو قرآن بھی ہاتھ میں تھا تو اسوۃ حسنیٰ والی سیرت بھی، عملی طور پر اس کے اہلِ بیت بھی!
لیکن صدیوں سے، ہزاروں برسوں سے جو قوتیں انسانی ارتقا کی معراج کو روکتی ہوئی آرہی تھی وہ کب چپ رہنی تھیں؟
اور پھر کیا ہوا؟
تین دن اس تاجدارِ رسالت کی میت مبارک جنازے کا منتظر رہی!
وہ میت مبارک کہ جس کے آخری خطبے میں ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی اکٹھے ہوئے، لیکن کیا کمالِ باطلیت کہوں کہ جنازے کی پہلی صف جتنے لوگ بھی نہیں میسر ہو رہے تھے!
مجھے کہنے دیں، اس بار بھی سچ کی کمر کو باطل کا ہتھوڑا اسی دن ہی لگ گیا تھا، جب نومولد مسلمان، برگزیدہ ہستیاں، (سوائے اس کے اہل بیت کے) باقی سب کے سب ان تین دنوں میں اس بات پر کہ جنازہ کیسے ادا کیا جائے، کہاں ادا کیا جائے؟ اتنے لوگوں کو کیسے سہولتیں میسر کی جائیں، ان کے طعام و قیام کا بندوبست کیسے کیا جائے؟؟؟؟؟؟؟؟ ان سوالات کو پس پشت پر لاکر اس بات میں مصروف عمل رہے کہ اب "پگ” کسے پہنائی جائے گی؟
کیا اب بھی کوئی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اسلام کی پہلی کربلا تو رسول اکرم صلعم کی رحلت مبارک کے بعد پہلے تین دن تک چلی۔۔۔ پہلی شامِ غریباں تو تب ہوئی تھی جب نو دس لوگ دفن کفن کر کے اپنے گھر پہنچے تھے!
(بعد میں یہ سب جو سب کچھ آپ دیکھ رہے ہیں، وہ سب اس کربلا کی چیخ و پکار ہی تو ہے۔۔ جو آج تک ہر طرف گونج رہی ہے)

FAQ

اس تحریر کے اہم سوالات

یہ تحریر کس بارے میں ہے؟

چالیس برس کی ریاضت، صداقت، ایمانداری، کردار، فہم و فضیلت، سخن اور لاتعداد اعلیٰ انسانی اقدار سے بھری ہوئی زندگی اہلِ عرب کو جہالت سے کھنگال کر نکالتی ہے جسے ہم سب رسول اکرم صلعم کے طور پر جانتے ہیں۔پھر تیئیس برس دنیا کو ہلادینے…

اس موضوع کی اہمیت کیا ہے؟

یہ تحریر زبان، سماج، فکر، ثقافت یا ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اہم پہلو کو واضح کرتی ہے۔

یہ مواد امر فیاض کے فکری کام سے کیسے متعلق ہے؟

یہ مواد امر فیاض کے زبان، ادب، تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع فکری و تحقیقی کام کا حصہ ہے۔